Connect with us

انٹرٹینمنٹ

نیوزی لینڈ کی کرائسٹ چرچ مساجد حملے پر فلم بنے گی

پروڈیوسر معیذ مسعود نے کانز فلم فیسٹیول میں اعلان کیا کہ فلم کا نام ہیلو برادر ہے جو ایک افغان خاندان کی کہانی پر مبنی ہے۔

شائع کر دی گئی

on

بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے مصری پروڈیوسر معیذ مسعود نے کانز فیسٹیول 2019ء میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رواں سال مارچ میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں ہونے والے مسلح حملوں پر فلم بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ فلم کا نام ‘ہیلو برادر’ رکھا جارہا ہے۔

ہیلو برادر کی کہانی ایک افغان خاندان پر مبنی ہے جو جنگ کی وجہ سے افغانستان چھوڑ کر نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں رہنے جاتے ہیں۔ اس خاندان کے لوگ رواں سال مارچ میں اس شہر میں مساجد پر ہونے والے حملے میں پھنس جاتے ہیں۔

"کرائسٹ چرچ میں انسانیت پر حملہ ہوا اور ان کی ٹیم کے ممبران اس وقت نیوزی لینڈ میں متاثرین سے رابطے میں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس فلم ‘ہیلو برادر’ کے ذریعے لوگ ایک دوسرے مزید بہتر انداز سے سمجھ سکیں گے۔

فلم کا نام ہیلو برادر کیوں؟

کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں جب حملہ آور وہاں موجود بے گناہ مسلمان افراد کو قتل کرنے کیلئے داخل ہوا تو اس کا سامنا ایک افغان آدمی سے ہوا تھا، جس نے خوش اخلاقی سے اسے "ہیلو برادر” کہ کر خوش آمدید کہا تھا۔

وہ افغان بندہ اس حملے میں شہید ہوئے لیکن ان کے اس جملے (ہیلو برادر) نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل دہلا دیے۔

پسِ منظر

رواں سال مارچ میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مسلح حملوں میں 50 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے، حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی میں بم بھی نصب تھے۔

حملہ آوروں نے مساجد جاتے ہوئے کیمرے سے مکمل ویڈیو بنائی، جس میں حملے سے قبل سے لے کر فائرنگ اور بعد کی تمام صورتحال ریکارڈ ہوتی رہی، سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، تاہم فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سمیت کئی آن لائن پلیٹ فارمز نے یہ ویڈیوز فوری طور پر ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیں اور اسے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

Continue Reading
Advertisement
تبصرے

Facebook

Advertisement